اُڈپی :24/اکتوبر(ایس او نیوز) عقلمندوں کا ضلع کہلانے والے اُڈپی میں ذات پات کے معاملے میں آج بھی قبیح رسم کا جاری رہنا صحیح نہیں ہے۔ عوامی جگہوں پر کھانے اور پرساد کی تقسیم کے موقع پر تعصب نہیں ہوناچاہئے، اس طرح جو لوگ تفریق و تعصب برتتے ہیں انہیں کرناٹکا پرانت کرشی کولیکارر سنگھ کے ریاستی صدر نتیانند سوامی نے انسانیت کے دشمن ہونے کا الزام لگایا ۔
اُڈپی کے سائی ریسڈینشیل ہوٹل ہال میں کرناٹکا سنگھ اُڈپی کے ضلعی اجلاس کا افتتاح کرنے کے بعد وہ خطاب کررہے تھے۔ دھرم اور ذات کے مسئلہ کو لے کرہمارے ملک کو پوری دنیا کے سامنے جھکنے کے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ عوامی جگہوں ، مٹھ مندروں میں ذات پات کی تفریق کئے بغیر تمام کو مساوی مواقع فراہم ہوئی چاہئے۔ اگر ہمارے دھرم کے متعلق اختلافات ہیں تو وہ اپنے اپنے گھروں میں رکھیں ، دھرم کے نام پر فساد برپا کرنے والوں سے بیدار رہنے کی بات کہی۔ دیہی یقینی روزگار منصوبے کو ختم کرنے کے لئے بی جے پی اور کانگریس کی حکومتیں کوشش میں ہیں، منصوبے کو ضروری رقم منظور کرنے کے بجائے امداد میں ہی کٹوتی کی جارہی ہے، عوامی حمایت کے قوانین کو جاری کرنے کے بجائے حکومتیں ہی قانون کی خلاف ورزی کرنے کی بات کہی۔ جن کے پاس زمین نہیں ہے انہیں دیا جارہاہےبلکہ جن کے پاس زمینات ہیں انہی کو زمینات فراہم کرنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جارہی ہے، یہ تمام پالیسیوں کے خلاف بہت بڑی سطح پر جدوجہد کرنے کی بات کہی۔ راشن حاصل کرنا ہرایک کا حق ہ ے، اس لئے راشن کارڈ کے لئے عرضی دینے کی ضرورت نہیں ہ ے، افسران کو چاہئے کہ جن کے پاس راشن کارڈ نہیں ہے ان کی تلاش کرکے ان کے گھر جاکر راشن کارڈدینے کا کام ہونےکی بات کہی، اگر ایسا نہیں تو پھر جمہوریت کے کیا معنی؟۔ملک میں ابھی مکمل آزادی نہیں ہونے کی بات کہتے ہوئے انہوں نے کہ ہمیں ابھی معاشی آزادی حاصل ہی نہیں ہوئی ہے۔ 1990کے بعد ترقی کے نام پر جاری ہوئے کھلے بازار ، گلوبلائزیشن ، فارین انسوٹ مینٹ وغیرہ کی وجہ سے کسان خودکشی کرنے کا خیال ظاہر کیا۔ سنگھ کے ضلعی صدر داسوبھنڈاری ، سکریٹری وینکٹیش کونی، سی آئی ٹی یو کے ضلعی صدر وشوناتھ رائی ، سکریٹری کے شنکر، بالکرشنا شٹی ، وٹھل پجاری ، پدما، ناگرتنا وغیرہ موجود تھے۔